ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: سی ٹی روی نے کیا گوشت کھا کر مندر کا دورہ؛ سوشیل میڈیا پر زوردار بحث

بھٹکل: سی ٹی روی نے کیا گوشت کھا کر مندر کا دورہ؛ سوشیل میڈیا پر زوردار بحث

Wed, 22 Feb 2023 20:32:37    S.O. News Service

بھٹکل،22 / فروری (ایس او نیوز) بی جے پی نیشنل سیکریٹری سی ٹی روی نے بھٹکل دورہ کے وقت گوشت کھا کر ناگ بنا مندر اور کڑی بنٹا مندر میں جو حاضری دی تھی اس کے فوٹو سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بی جے پی لیڈران اور ایم ایل اے سنیل نائک کے خلاف زوردار بحث چل پڑی ہے۔ 
    
19 فروری کو چھتر پتی شیواجی جینتی کا ریاستی سطح پر جو جشن منایا جا رہا تھا اس میں شرکت کے لئے کاروار پہنچے ہوئے سی ٹی روی نے دوپہر کے وقت بھٹکل کا دورہ کیا۔ پھر شیرالی میں واقع بھٹکل ایم ایل اے سنیل نائک کے گھر پر بی جے پی کے مقامی لیڈروں کے ساتھ گوشت کے سالن والا کھانا کھایا ۔ اس موقع کی تصویریں سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔  
    
گوشت والا کھانا کھانے کا معاملہ اس لئے گرما گیا ہے کیونکہ سنیل نائک کے گھر کھانا کھانے کے بعد بی جے پی قائدین کا پورے وفد نے حال ہی میں از سر نو بحال کیے گئے راج آنگن ناگ بنا اور اس کے قریب میں موجود کریبنٹا مندر پہنچ کر پوجا کی۔ اس معاملہ پر لوگوں میں غصہ پایا جارہا ہے کہ سی ٹی روی سمیت بی جے پی لیڈران نے گوشت کھانے کے بعد مقدس مقامات میں حاضری  دی ہے جو کہ ہندووں کے مذہبی اصولوں کے بالکل خلاف ہے ۔ سوشیل میڈیا اور عوام میں اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ جب کانگریسی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے گوشت والی غذا کھانے کے بعد دھرمستھلا مندر میں حاضری دی تھی تو بی جے پی نے اس پر ہنگامہ کھڑا کیا تھا اور سدارامیا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اب سی ٹی روی جیسے بی جے پی کے نیشنل جنرل سیکریٹری کی طرف سے وہی کام کیا گیا ہے تو وہ کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ اس تعلق سے جب میڈیا والوں نے سنیل نائک سے رابطہ کیا تو انہوں نے سی ٹی روی کو بچانے کی کوشش میں گوشت کھانے کی بات سے ہی انکار کیا، مگر سی ٹی روی سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے قبول کیا کہ انہوں نے گوشت کھایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ گوشت کھانے والی ذات میں ہی پیدا ہوئے ہیں، اس لئے گوشت کھایا ہے، لیکن گوشت کھاکر مندر کے اندر نہیں گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ناگ بنا کے باہر ہی کھڑے تھے، وہاں گیٹ پر تالہ لگا تھا- یہ بات الگ ہے کہ ناگ بنا کے پیچھے جو مندر ہے، موصوف اس کے اندر گئے تھے اور پوجا کرکے باہر نکلے تھے، جس کی وڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے اور لوگ اس کے جھوٹ پر سوال پر سوال کھڑے کررہے ہیں۔
    
سی ٹی روی اور بی جی پی لیڈران کو ٹویٹر اور دیگر سوشیل اور ڈیجیٹل میڈیا پر آڑے ہاتھوں لینے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی لیڈروں کے کہنے اور کرنے کے عمل کا تضاد سامنے آگیا ہے۔ سی ٹی روی ان لیڈروں میں سے ہے جو اہم موضوعات اور عوام کے بنیادی مسائل سے لوگوں کا دھیان ہٹانے کے لئے مذہبی اور فرقہ وارانہ جذباتی باتوں کا سہارا لیتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کس کو کونسی غذا کھانا ہے یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے مگر بی جے پی چونکہ اس مسئلہ پر بھی غلط پروپگنڈہ والی سیاست کرتی ہے اس لئے سی ٹی روی کو بتانا چاہیے کہ آخر انہوں نے جو گوشت کھایا تھا وہ کونسا تھا، کیا انہوں نے حلال گوشت کھایا تھایاجھٹکا والا گوشت نوش فرمایا تھا۔ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر سیاسی دکان چمکانے والے بی جے پی کے لیڈران اپنے کھودے ہوئے گڈھے میں خود ہی گر گئے ہیں۔ 
    
ادھر سابق ایم ایل اے منکال وئیدیا نے بھی  ویڈیو کلپ جاری کرتے ہوئے اس واقعہ پر سوال اٹھائے ہیں اور پوچھا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے گوشت کھا کر مندر جانے پر اعتراض کرنے اور مخالفانہ مہم چلانے والے بی جے پی کے لیڈران نے اب خود ہی گوشت کھا کر مندر جاتے ہوئے مندر کے تقدس کو جو پامال کیا ہے اس پر کیا کہیں گے۔ 

 


Share: